3 جون 2012 - 19:30

بحرین کے انقلابی رہنما شیخ صادق الجمری نے کہا ہے کہ بحرین کے سیاسی فیصلے سعودی عرب میں کئے جاتے ہیں۔

ابنا: صادق الجمری نے فارس نیوز ‎سے گفتگو میں کہا کہ ملت بحرین دین اسلام کے مطابق بنیادی اصلاحات چاہتی ہے اور آل خلیفہ اور جاری سعودی عرب کے مقابل اس کی تحریک کامقصد بھی دینی حکومت قائم کرنا ہے۔

انہوں نے آل خلیفہ کی فریبی اصلاحات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سلطنتی خاندان تمام اہم وزارت خانوں پر اپنا قبضہ باقی رکھنا چاہتا ہے لیکن ملت بحرین اس سازش کو بھی ناکام بنادے گي۔ بحرین کے اس انقلابی رہنما نے کہا کہ آل خلیفہ کے فیصلے امریکہ اور سعودی عرب کے زیر اثر ہوتے ہیں اور امریکہ بحرین میں بنیادی اصلاحات سے خوف زدہ ہے کیونکہ اصلاحات پر عمل درآمد کی صورت میں عوامی پارلیمنٹ امریکی بحری اڈے اور امریکی فوجیوں کی موجودگي کی مخالفت کرے گي۔ انہوں نے کہا ان ہی مسائل کے پیش نظر امریکہ اور سعودی عرب بحرین کے امور میں مداخلت کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مغربی اور عرب حکومتیں خلیج فارس میں مزاحمتی حلقوں کے طاقتور ہونے سے بہت زیادہ وحشت زدہ ہیں۔ صادق الجمری نے کہا کہ امریکہ کو یہ خوف لاحق ہے کہ عوامی انقلاب کے نتیجے میں بحرین میں اسے اپنے فوجی اڈے سےہاتھ دھونا پڑے گا اسی بنا پر وہ ہرقیمت پر آل خلیفہ کی حکومت کو باقی رکھنا چاہتا ہے۔ قابل ذکر ہے آل خلیفہ کے کارندے امریکی ہتھیاروں سے ملت بحرین کو سرکوب کررہے ہیں۔ ادھر گلوبل ریسرچ ویب سائیٹ نے سعودی عرب سے بحرین کے الحاق کی تجویز کو سامراجی تجویز قراردیا ہے۔

گلوبل ریسرچ ویب سائيٹ نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے پیش کردہ یہ تجویز اس بات کو ظاہر کرتی ہےکہ خلیج فارس کے عرب ملکوں کے ستمگر حکمران اب بھی سامراجی زمانے میں زندگي گذار رہے ہیں ۔ اس ویب سائٹ کے مطابق بعض ممالک نے جن میں امریکہ سعودی عرب اور امارات شامل ہیں آل خلیفہ کی ڈکٹیٹر حکومت کی بھر پور مدد کی ہے اور کررہے ہیں۔ .......

/169